Pages

جمعہ، 6 دسمبر، 2013

کائنات کے بنانے والے خالق کے وجود کی عقلی دلیل


وجود باری تعالی یعنی ہستی صانع عالم کے دلائل عقلیہ سے ثبوت
پہلی دلیل --- دلیل صنعت
تمام عقلاء اس بات پر متفق ہیں کے صنعت سے صانع(بنانے والا) کی خبر ملتی ہے مصنوع (جس کو بنایا گیا)اور صنعت (factory)کو دیکھ کر عقل مجبور ہوتی ہے کے صانع کا اقرار کرے اور دہریئے(atheist) اور لا مذہب لوگ بھی اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کے فعل کے لئے فاعل  کا ہونا ضروری ہے . پس جبکہ ایک بلند عمارت اور ایک بڑا قلعہ اور اونچے مینار کو اور ایک دریا کے پل کو دیکھ کر عقل یہ یقین کر لیتی ہے کہ اس عمارت کا بنانے والا کوئی ضرور ہے اور اس منار اور پل کا  بنانے والا کوئی بڑا ہی ماہر انجینیر ہے تو کیا آسمان اور زمین کی اعلیٰ ترین عمارت اور اسکی عجیب و غریب صنعت اور اسکی باقائدگی اور حسن ترتیب کو دیکھ کر ایک اعلیٰ ترین صانع کا کیوں اقرار نہیں کیا جاتا.
          ایک تخت کو  دیکھتے ہی یہ یقین آجاتا ہے کہ کسی کاریگر نے اس ہئیت اور وضع سے اس کو بنایا ہے کیونکہ تخت کا خود بخود تیّار ہوجانا اور خاص ترتیب کے ساتھ لوہے کی کیلوں کا اس میں جڑ جانا محال ہے کسی درخت کے تختوں اور لوہے کی کیلوں میں یہ قدرت نہیں کہ اس ترتیب سے خود بخود جڑ جائیں.
          ایک دہری اور سائنس دان ایک معمولی گہڑی اور گھنٹہ کو دیکھ کر یہ اقرار کرتا ہے کہ یہ کسی بڑے ہی ماہر کی ایجاد ہے کے جو قوائد ہندسہ(digits) اور کل سازی کے اصول سے پورا واقف ہے اور یہ یقین کر لیتا ہے کے ضرور بالضرور اس گھڑی کا کوئی بنانے والا ہے کہ جس نے عجیب انداز سے اسکے پرزوں کو مراتب کیا ہے اور جس کے ذریعہ اوقات کا بخوبی پتہ چلتا ہے حالانکہ وہ یہ امر بخوبی جانتا ہے کہ دنیا کی گھڑیاں اور گھنٹے وقت بتلانے میں بسا اوقات غلطی کرتے ہیں مگر چاند سورج جو کبھی طلوع اور غروب میں غلطی نہیں کرتے اور جنکے ذریعہ سارے عالم کا نظام حیات اور نظام اوقات چل رہا ہے ،یہ دہری چاند اور سورج کے صانع کا اقرار نہیں کرتا اگر اس موقعہ پر کوئی یہ کہنے لگے کہ اس گھڑی کو ایک ایسے شخص نے بنایا ہے جو اندھا اور بھرا اور گونگا ہے اور ناسمجھ اور بے خبر اور علم ہندسہ سے بے بہرہ اور کل سازی کے اصول سے ناواقف ہے تو کیا یہی فلسفی اور سائنسدان اس کہنے والے  کو پرلے درجہ کا احمق نہ بتلائےگا ؟ غرض یہ کہ جہاں صنعت اور کاریگری پائی جائیگی صانع کا تصور اور اقرار ضرور کرنا پڑےگا.
بلکہ
صنعت کو دیکھ کر صرف صانع کا یقین ہی نہیں ہوتا بلکہ اجمالی طور پر صانع کا مرتبہ بھی معلوم ہو جاتا ہے پس کیا آسمان و زمین کی اعلی ترین صنعت کو دیکھ کر ہم کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ اس کا صانع بھی بڑا ہی اعلی اور ارفع اور اعظم اور اجل اور عقل سے بالا اور برتر ہے کہ جس کے صنائع اور بدائع کے سمجھنے سے عقلاء عالم کی عقلیں قاصر اور عاجز ہیں.
یہ منکرین خدا جب بازار میں بوٹ جوتا خریدنے جاتے ہیں تو دکاندار سے پوچھتے ہیں کے یہ بوٹ کس کارخانہ کا بنا ہے تو وہ اگر جواب میں یہ کہے کہ یہ بوٹ کسی کارخانہ میں نہیں بنا ہے بلکہ یہ بوٹ خود مادہ اور ایتھر کی حرکت سے آپ کے پیر کے مطابق تیار ہوگیا ہے اور خود بخود حرکت کرکے میری اس دکان پر آگیا ہے تو منکر خدا صاحب دکاندارکے اس جواب کے متعلق کیا کہیں گے، غور کرلیں اور بتلائیں کہ کیا سمجھ میں آیا اور اپنے اوپر منطبق کریں.

مکمل تحریر >>

بدھ، 4 دسمبر، 2013

قرآن کا چیلنج رہتی دنیا تک


قرآن کا چیلنج رہتی دنیا تک
قرآن کریم نازل ہو کر تقریبا ١٤٣٤ سال ہوگئے ہیں اور یہ کتاب الله تعالى کی نازل کردہ ہے ، جو لوگ اشکال کرتے ہیں وہ اس زمانے نزول کے وقت بھی اشکال کرتے تھے تو الله رب العزت نے انہیں چیلنج کیا ہے اس کا جواب اس زمانے کے عرب کے فصحا و بلغاء نہیں دےسکے اور آج تک کسی نے نہیں دیا یہ کھلا چیلنج قیامت تک کے لئے ہے.
چلیے اب قرآن کریم کے ان چیلنجز کو دیکھتے ہیں قرآن ہی کے زبانی
اول حق تعالی شانہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ
١)"تمام جن اور انس مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے.(سوره اسراءآیت ٨٨)
اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ
٢)تمام قرآن کا مثل اگر نہیں لاسکتے تو دس سورتیں ہی اس جیسی بنا کر پیش کردو (سوره ھود)
 اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ
٣)ایک چوٹی سی چوٹی سورت اس سورت کے مماثل بنا لاؤ (سوره یونس)
یہ تمام اعلانات مکہ مکرمہ میں کیے گئے پھر ہجرت کے بعد مدینے منورہ میں پہنچ کر پھر
٤) ایک سوره کے مثل لانے کا اعلان کیا گیا (سوره بقرہ ٢٣)
اور ایسی کوئی بندش نہیں کے اپ اکیلے ہی بنانا ہے الله تعالی نے آگے فرمایا اور اگر تم تنہا اس کے مثل لانے پر قادر نہیں تو اسکا علاج یہ ہے کہ تم سواے خدا تعالی کی اپنے تمام اعوان اور انصار کو بلا لو اگر تم اپنے اس اعتقاد میں سچے ہو کہ یہ الله کا کلام نہیں تاکے وہ تمہاری اس کام میں مدد کر سکیں اور اس مشکل کو حل کرسکیں اور سب مل کر قرآن کے ہم پلّہ کلام لاسکیں.
پھر آگے ایک پیشنگوئی فرمائی اور اگر تم (یہ ) نہ کر سکو اور ہرگز نہ کرسکو گے تو پھر اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور وہ کافروں کے لئے تیار کی ہوئی ہے.


الحمد للہ١٤٣٤ سال گزر گئے مگر کوئی اس کا مثل نہ لاسکا اور ان شاء للہ قیامت تک نہیں لا پایگا.
تو میری دعوت ہے ان سب سے جو اسلام کے خلاف لب کشائی کرتے ہیں کہ یا قرآن کا چیلنج قبول کریں یا الله سے دریں اور اس آگ سے دریں جس کا فیول آدمی اور پتھر ہیں اور ایمان لے آئیں.

١)قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا.(سوره اسراءآیت ٨٨)

٢)أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
٣) أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ(سورة يونس ٣٨)
٤)وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (سورة البقرة 23)
نوٹ: ہم نے مضمون میں آیات کا مفہومی اور مضمون کے مطابق کے حصے کا ترجمہ کیا ہے آخر میں آیات اور سوره کے نام اور آیت نمبر دیدیا ہے لفظی ترجمہ اپ دیکھ سکتے ہیں
مکمل تحریر >>

منگل، 3 دسمبر، 2013

حرمت شراب پر اشکل اور اسکا جواب



اشکال و جوابات
حرمت شراب پر
سوال: ان کی شریعت کا عجیب ماجرا ہے کہ جنّت کے اندر شراب جائز ہے لیکن دنیا کے اندر شراب حرام ہے ایسا کیوں اگر آپ یہ کہتے ہیں کے شراب حرام ہے تو پھر جنّت کے اندر جائز کیوں اگر آپ کہتے ہیں کہ شراب جائز ہے تو پھر حرام کیوں؟
جواب: ارے جناب؟ دنیا اور جنّت کی شراب کے اندر زمین و آسمان کا فرق ہے کیوں کہ دنیا کی شراب کے اندر اندیشہ ہے جس کی وجہ سے عقل و فہم مفقود ہو جاتی ہے اور انسان غلط کاری میں مصروف ہوجاتا ہے اور اس کے برعکس جنّت کی شراب ہے کہ جس کے اندر نہایت ہی لذت اور سیرابی ہوگی اور بغیر نشہ کے ہوگی . لہذا اسی فرق کی وجہ سے دنیا کی شراب کو حرام کہا اور جنّت کی شراب کو حلال کہا.
(مولانا قاسم نانوتوی رح  )
مکمل تحریر >>

پیر، 2 دسمبر، 2013

فرشتوں سے سوال کرنا کے میرے بندے کیا کر رہے ہیں



سوال : الله تعالى نے بارہا قرآن میں یہ اعلان کر دیا کہ میں عالم الغیب ہوں پھر بھی فرشتوں سے دریافت کر رہے ہیں کہ میرا بندہ کیا کر رہا ہے.؟
جواب١: جب رب کریم نے فرشتوں کو اظہار خیال فرمایا تھا تو فرشتوں نے جواب دیا تھا " أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا "(٢/٣٠) کہ اے الله اپ ایسی مخلوقات کو پیدا کرنے والے ہیں کہ جوخوں ریزی کرے گی. یعنی فرشتوں کا مقصد اور خیال یہ تھا کہ آدمی کو نہ پیدا کریں لیکن پھر بھی رب حقیقی نے پیدا فرمایا. تو جب بندہ نیک کام کرتا ہے تو خدا تعالى فرشتوں سے بطور خیال سابق کو فاسد کرنے کے لئے(یعنی فرشتوں کے اس خیال کو کہ انسان خوں ریزی کرنے اس کو فاسد کرنے کے لئے) فرماتے ہیں اے فرشتوں میرے بندے کیا کر رہے ہیں تو  جواب دیتے ہیں کہ نیک عمل کر رہے ہیں تو باری تعالى فرشتوں سے کہتے ہیں کہ تم نے مجھ سے کہا تھا کہ خوں ریزی کریں گے  اور ابھی تم خود کہ رہے ہو کہ نیکی کر رہے ہیں. فبھت الملائکة.
جواب ٢: دوسرا جواب یہ ہے کہ خداوند قدوس یقیناً عالم الغیب ہیں لیکن پھر بھی مذکورہ جملہ اس وجہ سے استعمال کرتے ہیں تاکہ اے فرشتوں تم گواہ رہو کہ میں نے فلاں بندہ کی بخشش کردی یعنی بطور شاہد کے فرماتے ہیں کہ میرا بندہ کیا کر رہا ہے.
والله اعلم بالصواب
مکمل تحریر >>

اتوار، 1 دسمبر، 2013

تخلیق کائینات کے متعلق سوال اور اس کا جواب



سوال: الله تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید کی مختلف آیتوں میں ہمیں بتاتے ہیں کہ انہوں نے زمین اور آسمانوں کو کل کتنے دنوں میں تکمیل فرمایا. الله پاک قرآن کریم کی آیات ٧:٥٤، ١٠:٣ اور ١١:٧ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ انہوں نے زمین اور آسمانوں کو کل چھ دنوں میں تکمیل فرمایا. لیکن پھر ٤١:٩، ٤١:١٠ اور ٤١:١٢ میں دو، چار اور دو دن بتاے جن کی جمع کل آٹھ دن بنتی ہے.

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سارا کام چھ دنوں میں ہی مکمل ہوا تھا یا آٹھ دنوں میں


جواب:-اس کا جواب یہ ہے کہ
اربعہ ایام جداگانہ نہیں جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ پہلے ٢ روز مل کر کہ جن میں زمین کا پیدا ہونا بیان ہوا ہے اور محاورہ عرب میں پہلے کام کی مدت کو اس کے بعد کے دوسرے کام کی مدت میں جو اسی جنس کی شامل کر کے مجموعی مدت بیان کردیا کرتے ہیں . جیسا کہ اس مثال میں سرت من البصرة الی بغداد و سرت الی الکوفة فی خمسةعشر یوماً کہ میں نے بصرہ سے بغداد تک کی منزل کو دس روز میں تمام کیا اور کوفہ تک پندرہ دن میں تمام کیا، چونکہ متصل ایک ہی قسم کا سفر تھا اس لیے مجموعی مدت لگائی گئی زبان نہ جاننے سے ایسے شبہات پیدا ہوتے ہیں
. و الله اعلم بالصواب
مکمل تحریر >>

جمعہ، 29 نومبر، 2013

کیا ختنہ کروانا الله خلقیت میں تبدیلی کرنا ہے



اشکال و جوابات
لا تبدیل لخلق الله (الآیة)
سوال : اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ خداوند قدّوس کی خلقیت کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہے لیکن یہ لوگ زمانہ ازل سے لیکر اب تک یہ عمل کرتے آرہے ہیں کہ بچہ پیدا ہوتا ہے. تو ٢/یا ٤/ سال کے بعد ختنہ کر دیتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ خدا کی خلقیت کے اندر شک کرتے ہیں گویا کہ تم تغیر خلق الله کے عامل ہو تو خود خدا کے منکر ہوں.
جواب : ختنہ سے تغیر الله لازم نہیں آتا اس لیے کہ حق جل شانہ نے اپنے خلیل حضرت ابرهیم علیہ السلام کو ٨٠ سال کی عمر میں ختنہ کا حکم فرمایا چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس حکم کی تعمیل فرمائی ، کہ یہ عمل حق تعالى کے حکم کی تعمیل ہے نہ کہ خالق کی خلقت پر کسی طرح کا تغیرو تبدل اور نہ ہی شک و شبہ ہے.
        دوسرا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ ختنہ کے اندر ناپاک شئی کو خارج کرتے ہیں یعنی جس طرح ناخن اور زیر ناف کے بال اور بگل کے بال کو کاٹتے ہیں تا کہ انسان گندگی سے مبرہ و منزہ رہے بعینہ یہی حال بچہ (کی ختنہ) کا ہے. 

مکمل تحریر >>

کیا الله عرش پر مقیم ہے؟؟؟


اشکال و جوابات
ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ
سوال: قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ حق جل مجدہ عرش پر مقیم ہے اور آپ لوگوں کو معلوم ہوگا کہ قائم وہ شخص ہوتا ہے جو ذوجسم ہو اور ذی روح  ہو. نتیجتاً محدود ہونا لازم آتا ہے اور جو جسم مادہ سے مرکب ہوتا ہے تو وہ مادہ محدث و تجدد کا مقتازی  ہے اور یہی دونوں تعدد الہ کو مستلزم ہے.
جواب: جناب آپ نے استویٰ کو تو سمجھا ہی نہیں استویٰ سے وہ مراد قطعاً نہیں جو آپ نے سمجھا ہے استویٰ کے معنی متمکن ہونا نہیں جیسا کہ آپ نے ترجمہ کیا ہے کہ الله تعالى عرش پر مقیم ہے حق جل مجدہ کا یہ فرمان کہ ثم استویٰ علی العرش کا مفہوم حقیقی یہی ہے کہ حق تعالى عرش پر محیط ہے اب یہ احاطت غالبیت پر دال ہے اب یہ بات واضح ہوگئی کہ الله تعالى عرش پر مقیم نہیں بلکہ حاوی علی العرش ہے ذات الہی کا عرش پر حاوی ہونا عدم جسم و محدود لازم آتا ہے اور جب آپ کی ذات جسم و جہات سے اور تحدید سے بالاتر ہوگئی تو تحدث و تجدد اس پر لازم نہیں آتا چنانچہ اس صحت معنی کے ساتھ اپ کے سوال کی دیوار منہدم ہو جاتی ہے

مکمل تحریر >>