Pages

ہفتہ، 8 نومبر، 2014

عیسیٰ علیہ السلام کو گود میں نبوت ملی اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو چالس سال میں تو عیسیٰ علیہ السلام افضل ہوئے کا جواب

اعتراض نمبر ۲:- حضرت مسیح علیہ السلام کو گود میں کتاب دی گئی جیسا کہ قرآن کریم ناظق ہے  إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ مگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال بعد خداوند قدوس نے کتاب دی۔

جواب: اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت اور کتاب و انجیل ماں کی گود میں نہیں دی گئی البتہ گفتگو بے شک ماں کی گود میں انہوں نے کی جس کا قرآن نے ذکر کیا ہے اور اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ماں ہی کی گود میں کتاب و نبوت دونوں چیزیں شیرخوارگی کی حالت میں دے دی گئیں تو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وجہ سے فضیلت لازم نہیں آتی، عقلی اعتبار سے اس سے بڑھ کر کمال تو یہ ہے کہ کسی ایک شخص کو چالیس برس کی طویل مدت تک اسی طرح دیکھتی رہی کہ نہ وہ ایک حرف  لکھ سکتا ہے اور نہ پڑھ سکتا ہے اور پھر ناگہاں اسی کی زباں سے علوم و ہدایت اور معارف و حقائق کے سمندر جاری ہوجائیں اور وہ کلام جو دنیا کو اپنے مقابلے کا اعلان (چیلنج) کرے اور تمام دنیا اس کے مقابلے سے عاجز رہے۔ عرب کے فصیح و بلیغ اس جیسی ایک بھی سطر پیش نہ کرسکے یقیناً یہ کلام ماں کی گود میں کلام کرنے سے بڑھ کر ہے پھر یہ بات بھی ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام کی طرح ماں کی گود میں دو اور بچوں نے بھی کلام کیا ہے حضرت ابو  ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ماں کی گود میں سوائے تین بچوں کے اور کوئی نہیں بولا۔ ایک حضرت عیسی علیہ السلام، دوسرا وہ بچہ جو جریج کے زمانے میں تھا اور تیسرا ایک اور بچہ واقعہ کی تفصیل کے لئے صحیح مسلم کی مراجعت کی جائے۔ جریج عابد و زاہد شخص تھا وہ اپنی ماں کی غلط بد دعاء کی وجہ سے ایک فتنہ میں مبتلا ہوا کہ ایک بدکار عورت اس کے گرجا کے قریب پناہ لینے والے چرواہے سے زنا کر کے حاملہ ہوئی اور ولادت پر یہ کہہ دیا کہ یہ جریج سے پیدا ہوا پس اس نومولود بچے نے لوگوں کے سامنے گوایہ دی کہ میرا باپ تو چرواہا ہے ، دوسرا ایک اور بچہ جو ماں کی گود میں دودھ پی رہا تھا اس کی ماں نے ایک شہسوار کو گزرتے دیکھ کر تمنا کی کہ اے اللہ تعالیٰ تو میرے بیٹے کو ایسا ہی بنادے، تو اس بچے نے کہا کہ اے پروردگار تو مجھے ایسا نہ بنا۔(صحیح مسلم ج۲،ص۳۱۳)
پس معلوم ہوگیا کہ ماں کی گود میں بات کرنا صرف عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت نہیں یہ چیزیں تو اکثر بچوں کے لئے بھی قدرت خداوندی نے ظاہر کی ہیں۔

     بہرحال دوسری تردید یہ ہے کچھ عرصہ قبل کی بات ہے کہ عرب کے اندر ایک یہودی گھر میں لڑکا پیدا ہوا ہے جو کہ صرف ڈیڑھ سال کی عمر میں نماز اور دیگر عبادات کا پابند ہوگیا اور کچھ یہ دنوں کے بعد بلا جھجھک عربی میں تقریریں کرتا ہے اور اسلام پر کئے جانے والے اشکالات کے جوابات دیتا ہے۔ اب بھلا بتائیں کہ کیا یہ لڑکا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فوقیت لے جائے گا؟ ہرگز نہیں پس اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت سے فوقیت نہیں لے جاسکتے۔
مکمل تحریر >>

جمعہ، 7 نومبر، 2014

رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک وفات کے وقت پر اعتراض کا جواب

منکرینِ حدیث کے اعتراضات کا جائزہ ۱
منکرین حدیث امت کو سرکارِ دوعالم ﷺ کی احادیث مبارکہ اور آپ ﷺ کی اتباع سے -جو کہ قرآن مجید کا حکم ہے- دور کر کے نفس کی اتباع میں لانے کے لئے احادیث کا اپنی طرف سے مطلب بیان کرنا اور ان میں تعارض بتا کر ان سے امت کو دور کرنے کی ناکام سازش میں لگے ہوئے ہیں۔
ان کی اس سازشی اعتراضات میں سے ایک اعتراض کا جواب دینے کی ہم نے کوشش کی ہے، ممکن ہے کسی حق پسند کو سمجھ آجائے اور وہ اپنے باطل عقائد سے توبہ کرلے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اس لئے بھیجا کہ ان کی اتباع کی جائے اور ان کو اس لئے بھی بھیجا کہ وہ آیات تلاوت فرمائیں اور لوگوں کا تزکیہ کریں اور ان کو قرآن ہ حکمت کی باتیں بتائیں جیسا کہ یہ بات قرآن کریم میں موجود ہے (دیکھئے سورہ الجمعہ آیت نمبر ۲)
اب یہی حکمت کی باتیں ہمیں احادثِ مبارکہ سے ملتی ہے، یہی احادیثِ مبارکہ ہے جن سے ہمیں قرآن کی تشریح و تفسیر ملتی ہے۔
خیر اعتراض اور اس کے جواب سے پہلے ایک بات یہ سمجھ لیں اور آپ سب خود اپنے اپنے علاقہ میں ایسا کرتے ہوں گے۔
کسی عدد کو بتانے کے لئے کبھی تو پورہ بتاتے ہیں اور کبھی اس کو دھائیوں میں بتاتے ہیں مثلاً
کسی چیز کو آپ نے ۳۵۳۵ میں خریدا ہو، تو کسی کے پوچھنے پر تو یہ کہتے ہیں کہ بھائی میں نے اس کو ساڑھے تین ہزار میں خریدا ہے، اسی طرح کبھی کسی کو پورا عدد بتاتے ہیں کہ میں نے اس کو تین ہزار پانچ سو پینتیس میں خریدا وغیرہ وغیرہ۔
اب آئیے منکرین حدیث کا اعتراض دیکھتے ہیں۔
منکر حدیث صحیح بخاری پر اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
"اس میں ایک روایت میں حضور ﷺ کی عمر  63 سال بتائی ہے اور ایک میں 60 سال۔"
اس اعتراض میں کچھ دم نہیں اصل میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ایک روایت میں فرمایا
«تُوُفِّيَ، وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ»
آپ ﷺ کی ترسٹھ برس کی عمر میں وفات ہوئی(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب کم سن رسول ﷺ۔۔۔ 2348، صحیح بخاری  کتاب المناقب باب وفاۃ النبی ﷺ 3536 عن عائشۃ رضی اللہ عنہا)

اور دوسری روایت میں فرمایا
تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً
آپ ﷺ کو ساٹھ سال کے سرے  پر اللہ تعالیٰ نے وفات دی۔(کتاب اللباس باب الجعد حدیث 5900)

آپ نے جو اوپر مثال سمجھی کہ کبھی ہم دہائیوں میں بات کہتے ہیں اور کبھی تفصیل سے دہائیوں کے ساتھ آنے اور پائی بھی ذکر کرتے ہیں۔
اور آپ روایت کے الفاظ اگر دیکھیں گے تو اس میں بھی وضاحت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ صرف 60 سال نہیں بلکہ "علی راس" کا لفظ استعمال فرمائے ہے یعنی 60 سال کے سرے پر اور دہائی کے اوپر کے عدد کو عرب لوگ کبھی واضح کرتے تھے کبھی حذف کرتے تھے جیسا کہ ہم بھی کرتے ہیں۔ تو اس میں شرعاً، عقلاً اور عرفاً  کوئی خرابی نہیں ہے، بس اعتراض کرنے والے کے دماغ میں فطور ہے۔
آنکھیں اگر ہیں بند تو پھر دن بھی رات ہے
اس میں بھلا قصور کیا ہے آفتا ب کا
آخر میں ایک گذارش یہ ہے کہ اگر کوئی دہریہ قرآن پر اعتراض کریگا تو کیا آپ قرآن چھوڑ دو گے؟؟؟
نہیں نا، تو پھر ان جیسے اعتراض اگر آپ کے سامنے آئیں تو علماء حق سے رجوع ہوں ان شاء اللہ تشفی بخش جواب ملے گا۔
اللہ پاک ہم کو قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور باطل کے مکر و فریب سے ہماری اور پوری امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔
مکمل تحریر >>

اعتراض قرآن میں عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا ذکر ہے اور نبی کریم ﷺ کی والدہ کا ذکر نہیں

عیسائیت کے اعتراضات کے جوابات ۱
اعتراض نمبر ۱۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی والدہ کو قرآن شریف نے صدیقہ کہا ہے اور ان کی شان میں  وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ بیان کر کے بتا دیا کہ ان کو تمام جہاں کی عورتوں پر فضیلت دی ہے اس کے بر خلاف محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کا قرآن کریم میں کوئی ذکر نہیں آیا؟


جواب: بیشک قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا ذکر کیا اور ان کو صدیقہ کہا ہے اور آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ کا ذکر قرآن میں نہین۔ لیکن اس سے مسیح علیہ السلام کی حضور ﷺ پر افضلیت لازم نہیں آتی حضرت مسیح علیہ السلام کی والدہ کے ذکر کی وجہ تو یہ ہے کہ یہود ان پر بہتان لگاتے تھے اس بناء پر ان کی عفت و پاکدامنی کا ذکر کیا گیا۔ اس کے برخلاف حضور ﷺ کی والدہ کے بارے میں کسی دشمن نے بھی ایک حرف بدگمانی کا نہیں لگایا تھا اسی وجہ سے ان کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا خاص اہتمام سے ذکر کیا برخلاف دوسرے انبیاء علیہم السلام کے ان کی ولادت کا مسئلہ کسی اعتراض یا شبہ کا محل نہ تھا اس لئے قرآن  نے اس سے کوئی تعرض نہیں کیا۔
مکمل تحریر >>

جمعرات، 6 نومبر، 2014

مذہب اسلام

مذہب  اسلام
مذہب دنیا میں بہت ہیں مگر ایسا مذہب جو ہر بات پر دلیل اور برہان پیش کرتا ہو اور بے دلیل باتوں کا رد کرتا ہو اور جن کو اپنے آغوش میں  آنے کی دعوت دیتا ہو سب سے پہلے ان کو تفکّر اور تدبّر کا حکم دیتا ہو کہ مجھ کو قبول کرنے سے پہلے میری تعلیمات کو عقل اور برہان کی کسوٹی پر پرکھ لو اور خوب سوچ لو اور سمجھ لو جب تمہارا قلب مطمئن ہوجائے اس وقت اس دعوت کو قبول کرو.
كما قال تعالى:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا                                    (القران ٤/١٧٤)
ترجمہ: " اے لوگو! بلاشبہ الله کی طرف سے تمہارے پاس ایک دلیل آئی ہے اور ہم نے تمہاری ہدایت کیلئے ایک نہایت چمکتا ہوا نور اتارا ہے."
كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ  (القرآن ٢/٢٤٢)
ترجمہ:" بیان کرتا ہے الله تعالیٰ اپنی نشانیوں کو تاکے تم سمجھو."
كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ (القرآن ٢/٢١٩)
ترجمہ:" اسی طرح الله تعالیٰ تمہارے لئے اپنی آیتوں کو بیان کرتا ہے تاکہ تم غور اور فکر کرو."
اور اپنے مخالفین سے بھی دلیل اور برہان کا مطالبہ کرتا ہے.
کما قال تعالیٰ:
قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (القرآن ٢/١١١)
ترجمہ:" آپ ان سے کہ دیجیے کہ اپنے دعوے پر دلیل لاؤ اگر سچے ہو."
إِنْ عِنْدَكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بِهَذَا أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(القرآن ١٠/٦٨)
ترجمہ:" اس دعوے پر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں کیا الله پر ایسی بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں."

ایسا مذہب صرف اور صرف مذہب اسلام ہے.
قرآن کریم میں اس قسم کی آیتیں بہت بکثرت موجود ہیں لہذا یہ کہنا کے اسلام ایسا مذہب ہے کے جو اپنی باتوں کو بے دلیل منوانا چاہتا ہے ایک کھلا ہوا بہتان ہے.
ہر مذہب میں کچھ اصول ہوتے ہیں اور کچھ فروع، اصول کم ہوتے ہیں اور فروع زیادہ انکا فرداَ فرداَ سمجھانا دشوار ہے بلکہ تطویل لا طائل اور بیکار ہے، اصول سمجھ لینے کے بعد فروع کا سمجھنا دشوار نہیں اس لئے الله تعالیٰ کی توفیق سے اس ناچیز کو یہ خیال ہوا کہ اصول اسلام پر ایک مختصر اور جامع تحریر لکھ دی جائے۔
     


مکمل تحریر >>

ہفتہ، 25 اکتوبر، 2014

عیسائیت کے اعتراضات کے جوابات سے قبل یہ ضرور پڑہیں

اعتراضات کے جوابات ملاحظہ کرنے سے قبل بطور مقدمہ کے کچھ باتیں سمجھ لیں پس ہم عیسائیوں سے دریافت کرتے ہیں کہ مذکورہ سوالات (جو ان لوگوں نے قرآن کے حوالہ سے کئے ہیں) کے ضمن میں جو تمام فضائل مسیح علیہ السلام  کا ذکر موجود ہے وہ کہاں سے ثابت ہے؟ عیسائی یہی کہیں گے کہ قرآن کریم سے ثابت ہے لہذا یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ ان سب فضیلتوں کی نسبت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب ہے اور انہی کے واسطے سے مسیح  علیہ السلام  ابن مریم   کے یہ کمالات معلوم ہوئے ۔ پس یہ بات کالشمس علی نصف النہار ہوگئی کہ مسیح ابن مریم کے فضائل کا سبب تاجدار کونین احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم محسن نہ قرار پائے بلکہ جملہ انبیاء  کرام علیہم السلام کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم محسن ٹھہرے اور ظاہر ہے کہ محسن اس سے افضل ہے جس پر احسان کیا جارہا ہے۔ پس گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسیح علیہ السلام پر افضلیت رکھتے ہیں۔ اسی طریقہ سے حضرت مسیح علیہ السلام کے کمالات و کرامات جو عیاں ہوئے ہیں وہ دراصل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت اور عظمت کی وجہ سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ باری تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے کمالات و کرامات کا اظہار فرمایا اور یہ بات بھی محقق ہے کہ کسی کے کمالات و کرامات کا اظہار خود اس ظاہر کرنے والے کے کمال کی دلیل ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ حضرت مسیح علیہ السلام ابن مریم  پر ہزاروں کئے جانے والے اشکالات کے جوابات دے دئے چوں کے مخالفین کبھی تو مریمؓ پر غلط تہمت لگاتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام کیسے اور کس طرح وجود میں آئے اسی طرح کے سوالات کئے جاتے تھے پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قرآن کریم کے ذریعہ ان تمام شبہات اور اشکالات کے مسکت جوابات دے دئے۔

بہر حال قرآن کریم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کافی احسانات ہیں مگر افسوس صد افسوس ان مخالفین پر ہے کہ ان تمام احسانات کو بھلا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا درجہ دیکر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے احکامات کو ٹھکرا دیا۔
مکمل تحریر >>

جمعرات، 23 اکتوبر، 2014

منکرین حدیث اور صحیح بخاری

منکرین حدیث کے وسوسوں کا جواب
الف)جب تک بخاری نہیں تھی تم حدیث کو ماننے والے نماز کس طرح پڑھتے تھے؟
جواب: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے سیکھا۔ اور ان میں سے بہت سے صحابہ حدیث لکھا بھی کرتے تھے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی حدیث لکھا کرتے تھے جس کی وضاحت صحیح بخاری میں ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ کی زبانی موجود ہے۔
اور حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کی تمام روایات کو ان کے شاگرد نے لکھ کر جمع کیا ہے۔
اور بھی تفصیل ہے جو اپ تدوین حدیث کے موضوع پر کتاب میں پڑھ سکتے ہیں۔
اور ان جاہلوں کو صرف بخاری پتا ہے حالنکہ امام بخاری سے پھلے بھی بہت سی حدیث کی کتابین وجود میں آگئی تھی اور فقھاء نے فقھی مسائل بھی احادیث سے مستنبط کر کے نکال دیے تھے۔
حدیث کی کتابوں میں مشہور امام مالکؒ کی مؤطا ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد کی کتاب الآثار ہے، اسی طرح امام شافعیؒ کی کتاب الام ہے، امام احمد کی مسند احمد ہے۔ اور بھی بہت سی کتابیں موجود ہیں۔
میرا سوال ان منکرینِ حدیث سے یہ ہے کت تم لوگ نماز کس طرح پڑھتے ہو۔
کتنی رکعت پڑھتے ہو۔؟
کتنی نمازیں پڑھتے ہو۔؟
فرض اور سنت کا کوئی تصور ہے کہ نہیں تمھارے پاس۔؟

ب)منکرین حدیث کا الزام کے ہم نے بخاری کو قرآن کا درجہ دیا ہے۔
حالانکہ ہمارے اصول کی کتابوں میں یہ بات واضح الفاظ میں لکھی ہوئی ہے
اصح كتب بعد كتاب الله البخاري
یعنی قرآن کریم کے بعد سب سے صحیح کتاب صحیح بخاری ہے۔
مکمل تحریر >>

ہفتہ، 4 اکتوبر، 2014

منکرینِ حدیث سے دس سوالات

منکرینِ حدیث سے دس سوالات


اسلام مکمل دین ہے۔ منکرینِ حدیث سے چند سوالات
قرآن مجید رہتی دنیا تک ہمیشہ کے لیے دین اسلام کے کامل ہونے کا اعلان فرمایا ہے، چنانچہ سورہ مائدہ میں ارشاد ہے
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لیے تمھارے دین کو کامل کردیا اور میں نے تم پر اپنا انعام پورا کردیا، اور میں نے تمہارے  لیے اسلام کو بحیثیت دین کے پسند کرلیا، (سورہ المائدہ 5 آیت 3)
      اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ دین اسلام کامل دین ہے، ہم منکرینِ حدیث سے سوال کرتے ہیں کہ جب دین کامل ہے اور تمہارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول فعل حجت نہیں ہے( جسے حدیث کہتے ہیں) تو تم پورا دین قرآن سے ثابت کرو۔
1.قرآن مجید میں نماز کا حکم ہے، بتاؤ قرآن کی کون سی آیت میں نماز کی رکعتوں کی تعداد بتائی ہے، اور رکوع اور سجدہ میں پڑھنے کو کیا بتایا ہے، نماز میں نظر کہاں رہے، ہاتھ کہاں رہیں یہ سب قرآن سے ثابت کریں۔
2. اسی طرح قرآن مجید میں جگہ جگہ زکوٰۃ دینے کا ذکر ہے، زکوٰۃ کتنی فرض ہے؟ کس مال میں فرض ہے؟ کتنے کتنے دنوں یا مہینوں کے فصل سے دی جائے، درمیان میں جو مال آئے اس کی زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ یہ سب امور قرآن سے ثابت کریں۔
3.قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ نماز کو کھڑے ہو تو ہاتھ پاؤں منہ دھو لو اور سر کا مسح کرو (سورہ المائدہ 5 آیت 6)۔ اس کو عوام و خواص سب وضو کہتے ہیں۔ اور احادیث شریفہ میں اس کا یہی نام وارد ہوا ہے۔ اس وضو کے توڑنے والی کیا چیزیں ہیں؟ اس کا جواب قرآن سے دیں۔
4. قرآن مجید میں حج و عمرہ کے پورا کرنے کا حکم ہے(سورہ بقرہ آیت  196)، حج کیسے ہوتا ہے؟ کیا کیا کام کرنے پڑتے ہیں؟ کن کن تاریخوں میں کیا عمل ہوتا ہے؟ اس کے کتنے فرائض ہیں؟ احرام کس طرح باندھا جاتا ہے؟ اس کے کیا لوازم ہیں؟کیا ممنوعات ہیں؟ یہ سب قرآن شریف سے ثابت کریں۔
5. عمرہ میں کیا کیا افعال ہیں؟ اور اس کا اتمام کس طرح ہوتا ہے؟ وہ بھی قرآن سے ثابت کریں۔
6. سورہ توبہ میں نمازِ جنازہ کا ذکر ہے(آیت 84) نمازِ جنازہ کس طرح پڑھی جائے؟ اس کا طریقہ ادا کیا ہے؟ یہ سب قرآن مجید سے ثابت کریں۔ نیز ساتھ ہی کفن دفن کا طریقہ بھی قرآن سے ثابت کریں اور یہ بھی بتائیں کہ میت کو غسل دیا جائے یا نہیں اور اگر دیا جائے تو کس طرح دیا جائے؟ ان سب امور کے بارے میں آیاتِ قرآنیہ میں کہاں کہاں ہدایات مذکور ہیں؟
7. نکاح انسانی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ انعقادِ نکاح کس طرح ہوتا ہے؟ یہ بھی قرآن سے ثابت کریں۔
8. قرآن مجید میں دیت(خون بہا) کا ذکر ہے(سورہ  النساء آیت 92) قرآن مجید سے ثابت کریں کہ ایک جان کی دیت کتنی ہے؟ اور مختلف اعضا کی دیت کتنی ہے؟ اور مرد و عورت کی دیت میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟
9. سارق اور سارقہ(چور اور چورنی) کے ہاتھ کاٹنے کا قرآن مجید میں حکم ہے(سورہ المائدہ آیت 38)قرآن سے ثابت کریں کہ ہاتھ کہاں سے کاٹا جائے؟(یاد رہے کہ عربی میں ید انگلیوں سے لے کر  بغل تک پورے  ہاتھ پو بولا جاتا ہے) اور کتنا مال چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے، کیا ایک چنا اور ایک لاکھ روپے چرانے کا ایک ہی حکم ہے؟ پھر اگر دوسری بار چوری کرلی تو کیا کیا جائے؟ ان سب امور کا جواب قرآن مجید سے دیں۔
10.قرآن مجید میں زانی اور زانیہ کو ماۃ جلد(سو ضرب) مارنے کا حکم دیا ہے(سورہ النور آیت 2)۔ یہ ضرب کس چیز سے ہو؟ متفرق ہو یا بیک وقت متواتر ہو؟ یہ سب قرآن سے ثابت کریں۔
      منکرینِ حدیث ان سوالات کے جوابات قرآن سے دیں اور یہ یقین ہے کہ وہ جوابات قرآن سے نہیں دے سکتے، لہذا یہ اقرار کریں کہ دین اسلام کو جو قرآن نے کامل بتایا یہ اسی طرح سے ہے۔ کہ قرآن کے ساتھ حدیث پر بھی عمل کیا جائے اور یہ بھی تسلیم کرلیں کہ قرآن مجید پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریحات کے بگیر عمل نہیں ہوسکتا اور یہ بھی اقرار کریں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال حجت ہیں۔
اور یہ بھی اقرار کریں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و ارشادات محفوظ ہیں۔ اگر وہ ہم تک نہ پہونچے ہوں تو  اب قرآن پر عمل ہونے کا کوئی راستہ نہیں رہتا اگر اس وقت قرآن پر عمل نہیں ہوسکتا تو قران دوامی کتاب نہ رہی(العیاذ باللہ)
      اور اگر حدیث کو حجت نہیں مانتے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ صرف قرآن سے دین کیسے کامل ہوا؟ قرآن مجید کا اعلان ہے کہ دینِ اسلام کامل ہے اور بے شمار احکام ہیں جو قرآن میں نہیں۔ اور جو احکام قرآن میں مذکور ہیں وہ مجمل ہیں۔ بغیر تشریح اور تفسیر کے ان پر عمل نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی دشمن یہ سوال کرلے کہ قرآن کا فرمان ہے کہ دین اسلام کامل ہے لیکن اس میں تو نماز کی رکعتوں کا ذکر بھی نہیں ہے۔ اور حج کا طریقہ بھی نہیں بتایا وقوفِ عرفات کی تاریخ بھی نہیں بتائی۔ دیت کی مقدار بھی نہیں بتائی وغیرہ وغیرہ تو پھر کیسے کامل ہوا۔ اس سوال کا جواب ملحدو اور منکرو تمہارے پاس کیا ہے؟ کیا انکارِ حدیث کے گمراہانہ دعوے کی پچ میں دین اسلام کو ناقص مان لو گے؟


مکمل تحریر >>