Pages

اتوار، 12 جولائی، 2015

یوروپ کی خود ساختہ مسیحیت اور اسلام میں فرق

اسلام اور آزاد خیالی حصہ ۳

یوروپ کی خود ساختہ مسیحیت اور اسلام میں فرق

اسلام میں اس طرح کے مذہبی لوگ نہیں ہیں جیسے یوروپ میں پوپ و پادری ہوتے ہیں، بلکہ یہاں مذہب ساری نوع انسانی کی مشترکہ میراث ہے۔ اپنی فطری، ذہنی اور روحانی صلاحیتوں اور ضرورت کے مطابق ہر شخص اس چشمہ سے سیراب ہو سکتا ہے۔ اسلام میں سب مسلمان برابر ہیں۔ اس میں زندگی کی بنیادی ضرورتوں اور معیار کارکردگی کی روشنی میں ہر شخص کے درجے متعین ہیں۔ا لبتہ اللہ کی نظروں میں سب سے معزز و محترم وہ لوگ ہیں جو متقی و پرہیز گار ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انجینئر ہے یا مدرس، کوئی فنکار ہے یا کارخانہ کا مزدور، کیوں کہ مذہب صنعتوں اور پیشوں کی طرح کوئی پیشہ نہیں ہے کہ لوگ اپنے پیشوں کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام میں پیشہ ور پادری نہیں ہوتے ہیں۔ چنانچہ عبادات پنجگانہ وغیرہ کی کاروائیاں پیشہ ور مذہبی شخصیتوں کی مداخلت کے بغیر بحسن و خوبی انجام پذیر ہوتی ہیں۔
البتہ یہ ضروری ہے کہ کچھ علوم فقہیہ اور مسائل شرعیہ کے ماہر ہوں کہ یہی علوم امور عامہ کی بنیاد ہیں تاکہ معاملات کے فیصلوں میں آسانی ہو تاہم ان اسلامی  علوم کے ماہرین اور فقہاء کا مرتبہ دنیا کے دوسرے ملکوں ہی کی طرح ہوگا۔ انہیں اپنے علمی اعزاز کی بنا پر عوام پر فوقیت اور برتری حاصل نہ ہوگی اور نہ ہی درجہ واری اعتبار سے کوئی امتیاز حاصل ہوگا۔ بلکہ ان کی حیثیت صرف ایک قانونی مشیر کی ہوگی (جیسا کہ سلیمان بن عبد الملک کے دورِ حکومت میں عمر بن عبد العزیزؒ خلیفہ مذکور کے مشیر کی حیثیت سے کام کرتے تھے) اور اگر کچھ لوگ ایسے ہوں بھی جو اپنے آپ کو علامہ دہر اور مفتی اعظم کہتے ہوں، تو اپنے منھ میاں مٹھو  بناکریں۔ بہر حال انہیں عوام پر کسی قسم کا کوئی غلبہ حاصل نہ ہوگا۔ صرف قانونی ہی دائرہ تک ان کی سرگرمیاں محدود ہوں گی امور عامہ میں انہیں دخل اندازی کا کچھ بھی اختیار نہ ہوگا۔ مثلاً
"جامعہ ازہر مصر" ایک دینی درسگاہ ہے لیکن اسے قطعی یہ اختیار نہیں کہ اہل علم و فضل کے جلانے یا انہیں آزمائشوں میں مبتلا کئے جانے کا کوئی حکم دے ہاں اسے صرف اتنی گنجائش ہے کہ کسی شخص کے اپنے ذاتی ںظریہ مذہب اور فہم دین پر تنقید کرسکتی ہے یعنی تفہیم و تنقیح میں جامعہ ازہر آزاد ہے یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے علمائے ازہر کے مذہبی خیالات پر تنقید و تبصرہ کرنے میں عام لوگ بھی آزاد ہیں کیوں کہ اسلام کسی ایک شخص یا جماعت کی جاگیر نہیں ہے اس لئے اپنی گزر اوقات کے پیشوں کا لحاظ کئے بغیر وہ سبھی لوگ مذہبیات کے ماہر سمجھے جائیں گے جو مذہب کا گہرا مطالعہ رکھتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں اس کا عملی مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔۔۔جاری
مکمل تحریر >>

جمعہ، 10 جولائی، 2015

یوروپ میں الحاد کی وجہ

اسلام اور آزاد خیالی حصہ ۲

یوروپ میں الحاد کی وجہ:


اس میں کوئی شک نہیں کہ مسیحیت کا وہ تصور جو یوروپ میں اہل کلیسا نے پیش کیا تھا اور اہلِ علم کے ساتھ جو انسانیت سوز برتاؤ انہوں نے کیا تھا مثلاً علم و سائنس کو دیس نکالا دینا، اہل علم اور سائنسدانوں کو طرح طرح کی سزائیں دینا، اوہام و خرافات،جھوٹ اور  لغو باتوں کو کلامِ الٰہی کہہ کر عوام کو اس پر عمل کی دعوت دینا وغیرہ نے یوروپ میں آزاد خیالوں کے لئے الحاد کا راستہ ہموار کیا تھا، ایسی صورت میں یوروپ کے دانشوروں کے لئے ضروری ہوگیا تھا کہ دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب نہایت صفائی سے کریں، یا تو فطری طور پر ایک خدا پر عقیدہ رکھیں یا سائنس کے علمی و عملی تجربات و مشاہدات پر ایمان لے آئیں۔
یوروپ کے دانشوروں نے فطرت پرستی کے نظریہ میں ایک طرح کی نجات محسوس کی تھی جس کے ذریعہ مذکورہ بالا فریب کے جال سے بچ سکتے تھے۔ اس لئے انہوں نے کلیسا سے صاف صاف کہہ دیا کہ "تم اپنے اس خدا کو لے جاؤ جس کے نام پر تم ہمیں غلام بنائے ہوئے ہو، گران بار ٹیکسوں کے بوجھ تلے ہمیں دبائے ہوئے ہو۔ تمہارے ان خداؤن پر ایمان لانے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم زاہد و درویش ہوجائیں گے، تارک الدنیا راہب ہوجائیں گے اس لئے ہم ایک نئے خدا پر ایمان لارہے ہیں، جس کے اندر معبودِ اول کی اکثر خوبیان موجود ہوں گی لیکن اس کے لئے کوئی گرجا(church) نہ ہوگا جو لوگوں کو غلام بنائے اور نہ ہی اس نئے دین کی طرف لوگوں پر اخلاقی، فکری اور مادی قسم کی کوئی پابندی ہوگی، جیسا کہ تمہارے دین میں ہے۔ بلکہ ہم اس کی وسعتوں میں ہر طرح کی قید سے آزاد ہوں گے۔

مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلام میں اس طرح کی کوئی ایسی چیز نہیں پائی جاتی ہے جو الحاد کی طرف رہنمائی کرتی ہو۔ اور نہ ہی عقیدہ کو سمجھنے کے سلسلہ میں کوئی مشکل چیز در پیش ہے جو ذہن کو پریشان کرے۔ مثلاً خدا ایک ہے وہی ساری کائنات کا خالق ہے، اور پھر ایک دین اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، وہ خدا اکیلاہے، اس کا کوئی ساجھی و شریک نہیں ہے، اس کے فیصلوں پر کوئی مواخذہ کرنے والا نہیں ہے۔" یہ اتنا واضح اور سادہ مفہوم ہے کہ کوئی بھی شخص حتیٰ کہ نیچری اور ملحد بھی بڑی مشکل سے اس کا انکار تو درکنار اس میں شبہ بھی کرسکتا ہے۔(جاری)
مکمل تحریر >>

بدھ، 8 جولائی، 2015

اسلام ................. اور آزاد خیالی

اسلام ................. اور آزاد خیالی
ایک مباحثہ کے دوران میرے ایک رفیق نے کہا کہ تم آزاد خیال نہیں ہو......
میں: وہ کیسے؟
وہ:کیا تم ایک خدا کے وجود پر عقیدہ رکھتے ہو؟
میں: ہاں! یہ میرا ایمان ہے۔
وہ: اور پھر اس کے لئے نمازیں بھی پڑھتے ہو اور روزے بھی رکھتے ہو؟
میں: جی ہاں۔
وہ: تو پھر آپ آزاد خیال (Free Thinker) نہیں ہیں۔
میں: آخر یہ کیوں؟
وہ: آپ ایک نا معقول اور خرافات چیز پر عقیدہ رکھتے ہیں جس کا کوئی وجود نہیں ہے۔
میں: آپ اور آپ کے ہم خیال کس چیز پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ آپ کے خیال میں اس کائنات کا اور زندگی کا خالق کون ہے؟
وہ: فطرت(Nature)
میں: آخر یہ فطرت کیا چیز؟
وہ: فطرت ایک لا محدود مخفی طاقت ہے۔ البتہ حواسِ خمسہ انسایہ کے لئے یہ ممکن ہے کہ اس کے مظاہر و آثار کا ادراک کرسکیں۔
آخر میں مَیں نے کہا کہ میں سمجھ گیا۔ آپ اپنے اس بیان کے ذریعہ ایک نامعلوم مخفی،قادر مطلق پر عقیدے سے ہٹا کر ایک نامعلوم قوت پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر میں اپنے خدا کا انکار کیوں کروں؟ اسی طرح کے ایک دوسرے نامعلوم القوۃ خدا بلکہ جھوٹے خدا کی خاطر۔ آپ مجھ سے میرا وہ خدا کیوں چھیننا چاہتے ہیں جس کی عبدیت میں مجھے امن، سکون اور سلامتی و ایمان جیسی لازوال نعمتیں ملتی ہیں۔ اور اس کے بدلے میں مجھے ایسا خدا دینا چاہتے ہیں جو نہ تو میری کسی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ امن و سکون فراہم کرسکتا ہے۔

            مختصراً یہ ان تمام ترقی پسندوں کاعقیدپ ہے، جو آزادئ خیال کی گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ، آزادئ خیال، ایک خدا کے انکار کے مترادف ایک لفظ ہے لیکن کسی صورت میں بھی اسے آزادئ خیال نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ تو الحاد پرستی ہے۔ جس کی بیناد پر عمارت الحاد کی تعمیر کرتے ہوئے وہ لوگ اسلام پر الزام تراشی کرتے ہیں، حالانکہ انکارِ خدا کے معنی میں آزاد خیالی کو اسلام سختی سے منع کرتا ہے کیوں کہ اسلام الحاد کا دشمن ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آزاد خیالی اور الحاد دونوں ہم معنی لفظ ہیں اور ایک ہی چیز ہیں اور کیا الحاد درحقیقت آزاد خیالی کی پہلی شرط ہے۔ معاملہ اصلاً یوں ہے کہ مغرب کے آزاد خیالوں کی تاریخ سے غلط طور پر متاثر ہو کر یہ لوگ اس حقیقت کی طرف نظریں دوڑاتے ہیں جب کہ کچھ مقامی اسباب و وجوہ کی بنا پر الحاد کا پروپگنڈہ یورپ میں ہوا تھا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ یہی تاریخ دینا میں ہر کہیں دہرائی جائے۔(جاری)
مکمل تحریر >>

پیر، 20 اپریل، 2015

آزادی نسواں ایک فریب

عورتوں کی آزادی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہر نام نہاد سیکولر اور دین بیزار مرد و عورت کی زبان پر یہ نارا ہے کہ ہمیں "عورتوں کی آزادی " چاہئے۔ اسلام نے عورت کو قید کر کے رکھ دیا ہے، مرد اور عورتیں برابر ہیں وغیرہ وغیرہ۔
      سننے میں شاید یہ نارے اچھے لگے لیکن یہ عورتوں کے ساتھ فریب کیا جارہا ہے، ان کے جسم تک پہنچنے کے یہ حیلے بہانے ہیں۔ ذرا غور کریں مغرب نے عورت کو کیا دیا ہے؟ اور اسلام نے کیا دیا ہے۔
اسلام نے عورت کے تحفظ کی پوری ھدایات دی ہیں اس کا نان نفقہ کی ذمہ داری اس کے باپ،بھائی،شوہر،بیٹوں میں تقسیم کی ہے۔ اس کو گھر کی ملکہ بنایا ہے۔  اسلام سے پہلےعورت کو زندہ درگور کیا جاتا تھا اسلام نے آکر اس جاہلانہ رسم کو ختم کیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا جس کے یہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اس کی اچھی تربیت کرے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا(مشکوٰۃ) اور بھی بڑے فضائل احادیث میں عورتوں کے آئے ہیں۔
یورپی ممالک نے عورت کو کیا دیا ، اسے ایک  برہنہ یا نیم برہنہ مردوں کے لئے تحفہ بنا دیا ہے۔ جہاں کہیں دیکھو عورتوں کے جسم کی نمائش ہوتی ہے۔ لیڈرس کی محفلوں میں ان کو نیم برہنہ سجایا جاتا ہے، کرکت میچس میں ان کو چیر لیڈر کا نام دیکر ان کے جسم کی نمائش کی جاتی ہے تو کہیں کسی اور طریقے سے ان کے جسم جی نمائیش ہوتی ہے گویا کہ عورتیں ان کے نزدیک ایک ٹشّو پیپر(tissue paper) سے بھی حقیر ہے، استعمال کی اور اسے پھینک دیا۔
ہماری بہنوں سے غذارش ہے کہ اسلام میں عورت کے مقام کو پڑھیں اور سمجھیں، غور کریں کے اسلام نے عورتوں کو کیا دیا ہے اور ان مغرب والوں نے کیا دیا ہے۔
نیچے ایک مختصر سی فہرست پیش کی جارہی جس سے پتہ چلیگا کے سال 2012 میں دنیا میں کن ممالک میں زنا (rape) کے کیسس زیادہ ہوئے، دیکھئے آیا وہ مسلم ممالک ہے یا مغربی ممالک اور ان کے ہم نشیں۔
2012 کے ایک سروے کے مطابق  لاکھ میں اتنے فیصد ریپ(زنا) کے کیسس رکارڈ ہوئے ہیں(یہ ٹائمس آف انڈیا 23 جولائی 2014 کی رپورٹ ہے)
امریکا: 85593
برازل : 41180
انڈیا: 22172،
برطانیہ: 15892
میکسیکو: 14993
فرانس:10108
جرمنی: 7724
سویڈن: 5960
روسی فیڈریشن: 4718
فلپائن: 4718
کولمبیا: 3157

یہ بات ہر بہن تک پہنچائے جو آزادئے نسواں کے پر شکوہ جھانسے میں آرہی ہے۔
مکمل تحریر >>

ہفتہ، 18 اپریل، 2015

عورت کی عزت کی حفاظت کیا چیز کی ضرورت ہے

عورت کے پردہ پر اعتراض کرتے ہوئے یہ بات کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ عورت کی حفاظت کے لئے پردہ ضروری ہے یا مرد کی تربیت؟
   اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کر لو عورت کی عزت کی حفاظت بھی ہو جائے گی اور مرد کی تربیت بھی۔ کیوں کہ
عورت کی عزت کے لئے حجاب کی بھی ضرورت ہے اور ساتھ میں مرد کی تربیت کی بھی اسی لیے قرآن و حدیث میں دونوں امور کی طرف رہنمائی ملتی ہے چنانچہ سورہ نور میں پہلے مردوں کو اپنی نگاہوں کو نیچے رکھنے کا اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے پھر عورتوں کو۔
لہذادین بیزار اور دین سے دوسروں کو بیزار کر کے پردہ کے خلاف یہ پروپگنڈہ نہایت بیکار ہے کہ عورت پردہ میں قیدی کی مانند ہے ۔ ہم کہتے ہیں وہ قید میں نہیں بلکہ وہ اسی طرح حفاظت میں ہے جیسے موتی سیپ میں محفوظ ہوتا ہے۔
شریعت میں دونوں کے لئے ایک ہی سزا تجویز کی ہے غیر شادی شدہ کے لئے 100 کوڑے اور شادی شدہ کے لئے سنگسار۔
اب رہی بات کے زیادہ زور عورت کے پردہ پر کیوں دیا جاتا  ہے تو بھائی سیدھی سی بات ہے کہ کلہاڑی تربوز پر گرے یا تربوز کلہاڑی پر نتیجہ ایک ہوتا ہے۔
آخر میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ عورت کی عصمت و عفت پردہ میں زیادہ محفوظ ہوتی ہے نہ کہ بے پردگی میں۔

اور یہ نام نہاد سیکولر جو مرد کی تربیت اور عورت کو بے پردہ کرنے کے جو الاپ جپتے ہیں یہ مرد کی تربیت نہیں بلکہ یہ خود فحش فلم و ویڈیوز دیکھ کر مرد کو بے حیا بنا کر اب عورت کو بے پردہ کر کے ان کی ہوس کا شکار بنانا چاہتے ہیں۔
مکمل تحریر >>

بدھ، 11 مارچ، 2015

حجر اسود کو بوسہ دینے کا راز

ہماری پچھلی پوسٹ حجر اسود کو بوسہ دینے کی وجہ میں ہم نے اس کو بوسہ دینے کی وجہ بتلائی تھی اب یہاں مزید تفصیل دلائل کے ساتھ موجود ہے

حجر اسود کو بوسہ دینے کا راز
       میں تبرعاً اس کا راز بھی بتلائے دیتا ہوں، حجر  اسود  کو بوسہ دینے کے راز کے متعلق میں کہہ چکا ہوں کہ اس کا منشاء عظمت و عبادت نہیں بلکہ محض محبت کا منشاء ہے، چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس حقیقت کو مجمع عام میں ظاہر کردیا، ایک بار آپ طواف کر رہے تھے اس وقت کچھ لوگ دیہات کے موجود تھے آپ رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ کا ارادہ کیا تو حجر اسود کے پاس ذرا ٹھہرے اور فرمایا
"میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے جو نہ کچھ نفع دے سکتا ہے اور نہ ضرر دے سکتا ہے اور اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا، کیا خشک معاملہ کیا ہے، حجر کے ساتھ، بھلا اگر مسلمان کا یہ معبود ہوتا تھا تو کیا اس سے بھی خطاب کیا جاتا کہ نہ تو نفع دے سکتا ہے، نہ ضرر پہنچا سکتا ہے۔(صحیح البخاری 1605)
 اس سے صاف معلوم ہوگی کہ اس تقبیل(بوسہ لینے) کا منشاء محض محبت کی وجہ سے ہے کہ حضور صلی اللہ  علیہ وسلم نے اس کو بوسہ دیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فضلہ بھی کسی جگہ گرا ہو تو ہم کو اس جگہ سے محبت ہوگی چہ جائیکہ وہ جگہ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ لگے ہوں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ کا دہن مبارک لگا ہو!!!
بامید آنکہ جانا روزے رسیدہ باشد
باخاک آستانش درایم جبہ سائی
       رہا کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کیوں بوسہ دیا؟ اس سوال کا کسی کو حق نہیں اور نہ ہم کو اس کی وجہ بتلانا ضروری ہے، ہاں اتنی بات یقینی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور عبادت و عظمت  کے بوسہ نہیں دیا، ورنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس بے باکی کے ساتھ " لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ " نہ فرماتے، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج شناس تھے جب انہوں نے حجر کے ساتھ یہ معاملہ کیا تو یقیناً اس تقبیل (بوسہ لینے) کا منشاء عبادت ہرگز نہیں اور تبرعاً اس کا جواب بھی بتالائے دیتا ہوں کہ ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہ حجر کے اندر تجلیت الٰہیہ کا بہ نسبت دوسرے حصص بیت کے زیادہ ہونا منکشف ہوا ہو، پس منشاء اس تقبیل کا تلبس زائد ہے تجلیات الٰہیہ سے اور جس چیز کو محبوب کے انوار سے تلبس ہو اس کا بوسہ دینا اقتضائے محبت ہے۔

(اشرف الجواب)
مکمل تحریر >>

منگل، 10 مارچ، 2015

حجر اسود کو بوسہ دینے کی وجہ

ملحدین و زنادقہ مسلمانوں پر یہ اعتراض کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے بت پرست  بتوں کی پوجا کرتے ہیں ویسے ہی مسلمان حجر اسود کی پوجا کرتے ہیں(نعوذ باللہ) کیوں کہ مسلمان حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہیں۔

جواب: حجر اسود کو بوسہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ تقبیل حجر عظمت سے نہیں بلکہ محبت سے ہے، جیسے بیوی بچوں کا بوسہ لیا کرتے ہیں، اگر بوسہ دینا عظمت کی دلیل ہے تو لازم آئے گا کہ ہر شخص اپنی بیوی کی عبادت کرتا ہے اور اس کا لغو ہونا بدیہی ہے، معلوم ہوا کہ تقبیل(بوسہ دینا) عبادت و تعظیم کو مستلزم نہیں، بلکہ کبھی محبت سے بھی تقبیل ہوا کرتا ہے، رہا یہ سوال کہ تم حجر اسود سے محبت کیوں کرتے ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میرے گھر کی بات ہے، اس کے متعلق مخالف کو سوال کرنے کا حق نہیں، دیکھئے اگر کوئی شخص عدالت میں یہ مقدمہ دائر کردے کہ فلاں مکان میری ملکیت میں ہے تو اس سے اس پر ثبوت طلب کیا جائےگا، لیکن جب وہ ثبوت پیش کردے گا تو مخالف کو اس سوال کا حق نہیں کہ اچھا مکان تو تمہارا ہی ہے مگر بتلاؤ اس گھر میں کیا کیا سامان موجود ہے؟ یا کوئی شخص بیوی کا بوسہ لے تو اس سے یہ سوال تو ہوسکتا ہے کہ تم اس کا بوسی کیوں لیتے ہو؟ لیکن جب وہ بتلا دے کہ میں محبت کی وجہ سے بوسہ لیتا ہوں تو پھر اس سوال کا کسی کو حق نہیں کہ تم کو بیوی سے محبت کیوں ہے؟ اور رات دن میں کتنے اس کے بوسہ لیتے ہو؟
       اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کی وجہ نہیں بتلا سکتے کہ ہم کو حجر اسود سے محبت کیوں  ہے؟ بلکہ مطلب یہ ہے کہ مخالفین کہ مخالفین کے اعتراض کا جواب اسی حد تک دینا چاہئے جہاں تک اس کا سوال کا حق ہے اور جو سوال ان کے منصب سے باہر ہو اس کا جواب نہ دینا چاہئے بلکہ صاف کہہ دینا چاہئے کہ تم کو اس سوال کا کوئی حق نہیں، مخالفین کا دماغ ہر بات کی حقیقت سمجھنے کے قابل نہیں امور دقیقہ (دقیق باتوں) کو ان کے سامنے نہ بیان کرنا چاہئے، بعض لوگ اس پر تعجب کرتے ہیں کہ وہ وجہ کون سی ہے جس کو ہم نہیں  سمجھ سکتے ہیں؟ آکر ہم بھی تو انسان ہیں، اگر باریک بات ہمارے سامنے بیان کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کو نہ سمجھ سکیں، میں کہتا ہوں کہ اگر ایسی بات ہے تو میں ایک ریاضی دان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اقلیدس کی کوئی شکل ایک گھس کھدے کو سمجھا دے جس نے اقلیدس کے مبادی و اصول موضوعہ کو کبھی نہ سنا ہو، یقیناً وہ اقرار کرے گا کہ میں ایسے شخص کو اقلیدس کی اشکال نہیں سمجھا سکتا، آخر کیوں؟ کیا وہ انسان نہیں؟؟  مگر بات وہی ہے کہ بعض امورمبادی و مقدمات کا سمجھنا ضروری ہوتا ہے، اس لئے اس کو وہی سمجھ سکتا ہے جس کے ذہن میں مبادی و مقدمات حاضر ہوں ہر شخص اس کو نہیں سمجھ سکتا اور یہ بالکل موٹی بات ہے مگر حیرت ہے کہ آج کل کے عقلاء کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی۔


مکمل تحریر >>